غزہ،12دسمبر(ہ س)۔اسرائیل کے داخلی سلامتی کے امور اور انتہا پسند جماعت کے سربراہ ایتمار بین گویر نے جعمرت کے روز حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عرب رہنما عزالدین القسام کے مزار کو مسمار کر دے۔عزالدین القسام فلسطینیوں کی آزادی کے لیے لڑنے والے معروف عرب رہنما تھے۔ انہی کے نام پر حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کا نام رکھا گیا ہے۔ ان کا مزار فلسطین کے لیے جدوجہد کے دوران اسی علاقے میں تعمیر کیا گیا تھا۔بین گویر نے سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو پوسٹ میں دیکھایا ہے کہ وہ سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے سامنے القسام محروم کا تباہ شدہ مزار ہے اور آگے عبادت کے لیے لگایا گیا ایک ٹینٹ۔
عزالدین القسام کو 1935 میں برطانیہ کے خلاف فلسطینی جنگ آزادی میں شہید کیا گیا تھا اور بعدازاں 1948 میں فلسطین پر اسرائیلی قبضہ ہو گیا تھا۔عزالدین القسام کی قبر حیفہ کے نزدیک شمالی اسرائیل میں ہے اور اس پر کئی سال سے اسرائیلی انتہا پسند حملے کر رہے ہیں۔بین گویر نے کہا ہے کہ القسام کا مزار ہر صورت مسمار کیا جانا چاہیے اور اس سلسلے میں ہم نے اپنا پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی پارلیمان میں ماہ اگست میں ہونے والی تقریروں کے دوران عزالدین القسام کے مزار کو مسمار کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اسرائیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اخبار ہیوم نے رپورٹ کیا ہے اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے مزار کے آس پاس سیکیورٹی کے انتظامات کو کمزور کر دیا ہے اور سی سی ٹی وی کیمرے ہٹانے کے علاوہ حفاظتی اہلکاروں میں بھی کمی کر دی ہے۔’اے ایف پی’ نے اس سلسلے میں اسرائیلی پولیس سے معلومات لینا چاہیں تو پولیس نے کہا یہ اعلیٰ حکام کا معاملہ ہے۔ خاص طور پر ان حکام کا جو قبروں اور مزاروں سے متعلق امور کو دیکھتے ہیں۔حماس کی طرف سے ایک بیان میں ان کے ذمہ دار محمود مرداوی نے اسرائیلی وزیر کے مطالبے کی مذمت کی اور اسے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسی جارحانہ کوشش ہے جس کی پہلے کبھی مثال نہیں ملی۔ یہ جارحیت مقدس مقامات اور قبروں کے تقدس کے خلاف ہے اور جس کی بنیادی انسانی اقدار اجازت نہیں دیتیں۔بیان میں انہوں نے مزید کہا عزالدین القسام کی قبر کو ٹارگٹ کرنا صرف قبر کو ٹارگٹ کرنا نہیں بلکہ یہ فلسطینیوں کی قومی تاریخ اور یادگار وہ نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔ تاہم یہ کوششیں ہماری جدودجہد کو روک نہیں سکتیں۔انہوں نے مزید کہا انتہا پسندی سرکاری سطح پر اعلان کردہ پالیسی بن چکی ہے۔ اس اسرائیلی دہشت گردی و جارحیت کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح سے اقدامات کی ضرورت ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
